Don’t wait for corona to get worse

 

کورونا کے بگڑنے کا انتظار نہ کریں
یاسر پیر زادہ18 نومبر ، 2020

آپ میں سے جن لوگوں کا اپنے بارے میں خیال ہے کہ زندگی نے اُن کے ساتھ بہت نا انصافی کی ہے، وہ یہ واقعہ پڑھنے کے بعد فیصلہ کریں کہ کیا اُن کے ساتھ ڈاکٹر لی سے بھی زیادہ نا انصافی ہوئی ہے؟ چین کا ڈاکٹر لی وہ پہلا شخص تھا جس نے دنیا کو کورونا وائرس کے خطرے سے آگاہ کیا۔ یہ ڈاکٹر ووہان کے اسپتال میں کام کرتا تھا ، دسمبر 2019میں جب وہاں اوپر تلے سات مریض داخل ہوئے جن میں ایک ہی قسم کی علامات تھیں تو اِس ڈاکٹر کا ماتھا ٹھنکا ۔ اُس نے اپنے ساتھی ڈاکٹروں کے سامنے یہ بات رکھی اور اس خدشے کا اظہار کیا کہ اسے یہ سارس وائرس کی کوئی شکل لگ رہی ہے۔چار دن بعد ڈاکٹر لی کو’عوامی تحفظ بیورو ‘نے طلب کیا جہاں اسے ایک ’بیانِ حلفی ‘پر دستخط کرنے پر مجبور کیا گیا جس میں لکھا تھا کہ اُس نے جھوٹی افواہیں پھیلائیں ’’جس سے نظم اجتماعی کو سخت نقصان پہنچا‘‘۔بیورو کے افسران نے اسے سخت لہجے میں تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہم تمہیں متنبہ کر رہے ہیں کہ اگر تم نے اپنی ہٹ دھرمی جاری رکھی اور اسی لاپروائی کے ساتھ غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث رہے تو تمہیں قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا، بات سمجھ میں آ گئی ؟‘ ڈاکٹر لی نے خاموشی سے سر جھکا دیااور ’جی جناب‘کہہ کر وہاں سے نکل آیا۔یہ 3جنوری 2020کا واقعہ ہے۔ چینی حکام کی جانب سے ڈاکٹر لی کو جاری کیا گیا یہ خط آج بھی بی بی سی کی ویب سائٹ پر موجود ہے۔ 10 جنوری کو خود ڈاکٹر لی میں کورونا کی علامات ظاہر ہونا شروع ہو گئیں اور دو دن بعد اسے اسپتال داخل کر دیا گیا۔20جنوری کو چین نے اِس وبا کے تناظر میں ہنگامی حالت کا اعلان کر دیا۔ چینی حکام نے ڈاکٹر لی سے معافی مانگی۔مگر اس وقت تک دیر ہو چکی تھی ۔ٹھیک اٹھارہ دن بعد 7فروری 2020کو تینتیس سالہ ڈاکٹر لی وین لیانگ کی کورونا وائرس کی وجہ سے موت واقع ہوگئی ۔

2020کورونا وائرس کا سال تھا ، اِس ایک سال میں جہاںیہ وائرس دنیا کو لاکھوں اموات دے گیا وہاں انسان کو یہ سبق بھی سکھا گیا کہ اپنی خواہش کے تابع کسی چیز کاانکار یا اقرار کرنے سے حقیقت تبدیل نہیں ہوتی۔ چینی حکام نے ڈاکٹر لی کی سرزنش تو کر دی مگر اُس سے کورونا وائرس کی صحت پر کوئی اثر نہیں پڑا۔اِس پورے سال میں ہم نے کئی سازشی تھیوریاں سنیں ، کسی نے کہا کہ بل گیٹس اپنی ویکسین بیچنے کی خاطر یہ وائرس پھیلا رہا ہے اور کسی نے فائیو جی کے کھمبوں کو وائرس پھیلانے کا ذریعہ قرار دیا ۔کسی نے وائرس کے متعلق عجیب و غریب پیشگوئیاں کیں تو کسی نے کووڈ کا علاج جڑی بوٹیوں سے بتایا ۔ کوئی پیشگوئی درست ثابت ہوئی اور نہ ہی کوئی ٹوٹکا کام آیا، کسی سازشی تھیوری کا سراغ ملا اور نہ ہی فائیو جی کے کھمبے اکھاڑ کر کچھ نکلا۔آج ہم سب کو اُس ویکسین کا انتظار ہے جو تیاری کے آخری مراحل میں ہے ، یہ ویکسین پچانوے فیصد تک موثر ہے ،ماہرین کے مطابق اس ویکسین کے استعمال سے اگلے موسم سرما تک دنیا اپنے معمول پر واپس آ جائے گی۔ہمارا کام بس اتنا ہے کہ جب تک یہ ویکسین نہیں آتی، اُس وقت تک احتیاط کریںاور اگر خدانخواستہ آپ میں کورونا کی علامات ظاہر ہوں تو کچھ ایسی باتو ں پر عمل کریں جن سے یہ بیماری بگڑنے نہ پائے۔ یہ باتیں کیا ہیں؟

پہلی بات یہ ہے کہ بیماری کا انکار نہ کریں ۔ یہ درست ہے کہ ہرکھانسی یا بخار کورونا نہیں ہوتا،آج کل موسم تبدیل ہو رہا ہے جس سے لوگوں کو عام فلو بھی ہورہا ہے مگر کورونا کی علامات مخصوص ہیں۔جونہی یہ علامات ظاہر ہوں فوراً اِس کا ٹیسٹ کروائیں مگر ساتھ ہی اپنی چھاتی کا ایکسرے اور کچھ خون کے ٹیسٹ بھی کروالیں، مثلاً سی بی سی ، ای ایس آر، ڈی ڈائمر وغیرہ ، پوری تفصیل آپ کو کسی مستند ڈاکٹر سے مل سکتی ہے،ویسے تو فدوی کے پاس بھی یہ تفصیل موجود ہے مگر فدوی چونکہ ڈاکٹر نہیں اس لیے Disclaimer (اعلان دستبرداری)دے دیا ہے۔ فائدہ اِس کا یہ ہوگا کہ کورونا کے ٹیسٹ سے پہلے یہ ٹیسٹ مل جائیں گے اور علاج فوراً شروع ہو سکے گا۔ اِس بیماری میں بروقت تشخیص بے حدضروری ہے۔ ہمارے دلبرجانی ارشد وحید چوہدری کے ساتھ بھی یہی ہوا۔ انہیں کچھ دنوں سے بخار، کھانسی وغیرہ تھی مگر وہ یہی سمجھے کہ عام موسمی بخارہے ، اس میں کئی دن گزر گئے۔جب تک کورونا کا ٹیسٹ کروایا اُس وقت تک بیماری بگڑ چکی تھی ، ارشد کو وینٹی لیٹر پر ڈالا گیا اور پھر وہاںسے یہ ہیرے جیسا صحافی واپس نہیں آیا۔کیا تیرا بگڑتا جو نہ مرتا کوئی دن اور!

کورونا میں بروقت تشخیص کے دو فائدے ہوتے ہیں ، ایک تو ڈاکٹر آ پ کو اسی سنجیدگی سے لیتے ہیں جس سنجیدگی سے آ پ بیماری کو لیتے ہیں ، اگر ڈاکٹر یہ دیکھے کہ آپ پورے ٹیسٹ لے کر اُس کے پاس آئے ہیں تو اسے علاج میں بھی آسانی ہو جاتی ہے اور دوسرا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ اگر ایکسرے یا خون کے نمونوں میں کوئی بڑی خرابی نظر آئے تو پھر جان بچانے والی ادویات ، اینٹی بائیوٹک اور ضروری انجکشن وغیرہ بر وقت دیے جا سکتے ہیں ۔یہ سب کچھ اسی صورت میں ممکن ہے اگر مریض بیماری کا انکار کرنے کی بجائے حقیقت قبول کرے اور ٹوٹکو ں کی بجائے میڈیکل سائنس کے مطابق علاج کروائے ۔اِس دوران مریض کو اپنا Saturationلیول بھی دیکھتے رہنا چاہیے ، آج کل یہ اسمارٹ فون سے بھی دیکھا جا سکتا ہے ، اگر کسی دن یہ مسلسل چوبیس گھنٹوں تک 94سے نیچے رہے تو ایسی صورت میں فوراً اسپتال داخل ہو جانا چاہیے ۔ اِس بات کا کوئی ثبوت نہیں ملا کہ یہ وائرس اب اتنا خطرناک ہو چکا ہے کہ کسی ٹیسٹ میں ظاہر نہیں ہوتالہٰذا اِس سے پریشان نہ ہوں ۔یہ وہ چند باتیں ہیں جن پر عمل کرکے اِس موذی مرض کو بگڑنے سے روکا جا سکتا ہے ۔رہ گئی احتیاط تو وہ آج بھی وہی ہے ، ماسک پہنیں ،ہاتھ دھوئیں ، ہجوم اور بھیڑ سے بچیں۔البتہ حواس باختہ نہ ہوں، گھر کی چیزوں کو ، اپنے جوتوں یا کپڑوں کو پاگل پن کی حد تک صاف کرنے کی ضرورت نہیں ۔دل کا میل البتہ ضرور صاف کرتے رہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *