Shauoor ki Baatein

*شــــــعور کی باتیں*

*مسجد میں جماعت کے دوران اس کا موبائل بجنے لگا…*
*نماز ختم ہوئی تو امام صاحب کے ساتھ ساتھ اور نمازیوں نے*
*بھی اسے خوب ذلیل کیا. وہ شرم سے پانی پانی ہوتا ہوا باہر نکل آیا اور خود سے ہم کلام ہوا کہ…*

*”میں آئندہ مسجد نہیں آؤں گا…”*

*کچھ دن بعد اس کے دوست اسے کلب لے گئے…*
*وہاں اس کے ہاتھ سے گلاس گر کر ٹوٹ گیا. یہ منیجر کو اپنی طرف آتے دیکھ کر ڈر گیا* *منیجر نے آتے ہی اس سے پوچھا! سر آپ کو لگی تو نہیں؟؟*
*یہ حیران ہوا اسے دیکھتا رہا اور مشکل سے ” نہیں “کا لفظ منہ سے نکلا…*
*منیجر نے ویٹر کو بولا سر کو دوسرا گلاس دے دو…*
*پھر وه خود سے ہم کلام ہوا….*
*” اب میں روز کلب آیا کروں گا کلب والے تو میری عزت کرتے ہیں “*
*کیا ہم اپنے تلخ وترش رویے نہیں بدل سکتے ؟*
*کیا ہم دوسروں کو اچھائی کی طرف راغب کرنے والے لہجے نہیں اپنا سکتے ؟*
*کیا ہم اپنے سے کمتر کو اچھے الفاظ سے نہیں مخاطب کر سکتے ؟*

*کیا ہم اپنے پیارے نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی سنت کی پیروی کرتے ہوئے نیکی و حسنات کی نیت سے اخلاق حسنہ کا مظاہرہ نہیں کر سکتے ؟*

*کیا ہم نرمی سے نہیں بول سکتے….؟*

🌲🏵🌲🏵🌲🏵🌲🏵🌲🏵🌲

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *